25.9 C
Karachi
Friday, April 19, 2024

لاپتہ افراد کے کیس کو سیاسی میدان نہ بنائیں، چیف جسٹس

ضرور جانیے

سپریم کورٹ آف پاکستان میں جبری گمشدگیوں اور لاپتہ افراد کے خلاف کیس کی براہ راست سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ ذاتی معاملات نہیں سنیں گے، کیس کو سیاسی میدان میں نہیں بدلیں گے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس فیض عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ اس اہم کیس کی سماعت کر رہا ہے جس میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس محمد علی مظہر شامل ہیں۔ وکیل شعیب شاہین نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ درخواست پر اعتراضات ختم ہو چکے ہیں لیکن ابھی تعداد مقرر نہیں کی گئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ رجسٹرار آج اعتراضات کے خلاف تحریری حکم جاری کریں گے اور کیس آگے بڑھائیں گے۔

عدالتی فیصلوں کا حوالہ

شعیب شاہین نے لاپتہ افراد کے حوالے سے ماضی میں دیے گئے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فیض آباد دھرنا کیس میں بھی تفصیل سے لکھا گیا تھا۔ کنکشن کیا ہے؟ اس پر وکیل شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کا براہ راست ذکر نہیں بلکہ اداروں کے آئینی کردار کا ذکر ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ قانون کے مطابق احتجاج کا حق برقرار رکھتا ہے۔

وکیل شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ عدالت نے املاک کو نقصان پہنچانے اور سڑکیں بلاک کرنے پر کارروائی کا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس نے ان سے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ آپ فیض آباد دھرنا کیس کا حوالہ دے رہے ہیں۔ وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ فیض آباد دھرنا پہلے دن سے ہی فیصلے پر قائم ہے۔ اگر ہر ملک کی تنظیم اپنی حدود میں رہ کر کام کرتی تو ہم آج کل نہ دیکھتے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس کیس سے پہلے ایک اور کیس تھا، ابصار عالم میڈیا سے بات کر رہے تھے، انہوں نے ہمت کی اور اس عدالت میں آکر بات کی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ اگر عدالت عمران ریاض کو طلب کرے تو کیا ہوگا؟ کیا وہ ظاہر ہونے کے لئے تیار ہیں؟

تشویش

شعیب شاہین نے جواب دیا کہ عدالت تحفظ فراہم کرے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اسے سیاسی میدان نہ بنائیں۔ ہمارے پاس ایک فوج ہے جو تحفظ فراہم کرے گی۔ اگر کسی کو تشویش ہے تو ایف آئی آر درج کریں۔ کیا ہم کسی کے لیے قالین بچھا دیں گے؟

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ شیخ رشید احمد نے آپ کو کیا بتایا؟ اگر شیخ رشید دھرنے کیس، الیکشن کیس میں عدالت آ سکتے ہیں تو اس کیس میں کیوں نہیں؟ جبکہ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ جو اپنے لیے نہیں بول سکتے وہ کسی کے لیے کیسے بولیں گے۔

دریں اثنا وکیل شعیب شاہین نے مطیع اللہ جان کیس کا بھی حوالہ دیا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ مطیع اللہ جان کا نام نہیں لے رہے تھے، اس وقت کی حکومت نے ذمہ داری لی؟ شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ شاید وہ اس مداخلت سے جلد واپس آ گئے ہوں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ کیس دو منٹ میں حل ہوسکتا ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ اس معاملے میں ایک بھی شخص کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا ہے۔ واقعہ کیمروں میں ریکارڈ کیا گیا تھا، آپ کو کریڈٹ نہیں لینا چاہئے.

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آمنہ مسعود جنجوعہ کو روسٹرم پر بلایا اور کہا کہ میرے شوہر کو 2005 میں جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے یہ موقف اختیار کیا تھا۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اس وقت کس کی حکومت تھی؟ آمنہ جنجوعہ نے کہا کہ پرویز مشرف کی حکومت تھی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کے شوہر کیا کرتے تھے؟ آپ کے شوہر کو کیوں اٹھایا گیا؟

آمنہ مسعود جنجوعہ نے الزام عائد کیا کہ میرے بزنس مین شوہر کو مشرف دور میں اٹھایا گیا تھا۔ اس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے شوہر کا بادشاہت یا حکومت سے کیا تعلق تھا؟ کس وجہ سے ریاست یا حکومت آپ کے شوہر کی پرورش کرے گی؟

چیف جسٹس نے کہا کہ سب سے پہلے وجہ سمجھ لی جائے کہ حکومت نے آپ کے شوہر کو کیوں منتخب کیا ہوگا؟ کیا آپ کے شوہر کسی تنظیم کے رکن تھے یا مجاہدین کے حامی تھے؟ آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ مسنگ پرسنز کمیشن نے 2013 میں میرے شوہر کو مردہ قرار دیا تھا۔ وہ 2005 میں پشاور میں اپنے دوست سے ملنے کے لیے گھر سے نکلا تھا لیکن وہ وہاں نہیں تھا۔ پہنچ.

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 18 سال گزر چکے ہیں، آمنہ جنجوعہ کو حق حاصل ہے کہ وہ سچ سامنے لائیں۔ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ماضی میں خصوصی بینچ تشکیل دیا تھا جو کمیشن کی کارروائی کی نگرانی کرتا تھا، خصوصی بینچ ان کیسز کی سماعت کرتا تھا جن میں پروڈکشن آرڈر پر عمل نہیں کیا گیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 9 جنوری 2024 تک ملتوی کرتے ہوئے آج کی سماعت کا حکم نامہ لکھنا شروع کردیا۔

پسندیدہ مضامین

پاکستانلاپتہ افراد کے کیس کو سیاسی میدان نہ بنائیں، چیف جسٹس