25.9 C
Karachi
Friday, April 19, 2024

قوم کی تقدیر بدلنا تعلیم کے ذریعے ہی ممکن ہے، چیف جسٹس

ضرور جانیے

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ اگر کسی قوم کی تقدیر بدلنی ہے تو یہ تعلیم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا سیشن کورٹ رپورٹرز کے لیے منعقد کیا گیا ہے۔ معلومات آپ کے ذریعے عوام تک پہنچتی ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 19 میں آزادی صحافت کا ذکر ہے۔ معلومات تک رسائی بھی لوگوں کا بنیادی حق بن چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ معلومات تک رسائی کا فیصلہ ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے فیصلے میں لکھا ہے کہ اگر کوئی ادارہ معلومات فراہم نہیں کرتا تو وہ اس کی وجہ بتائے۔ اس سے پہلے یہ کہا گیا تھا کہ جو شخص معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے وہ وجہ بتائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عوام کے پیسے سے چلنے والے ادارے عوام کو جوابدہ ہیں۔ عہدہ سنبھالتے ہی انہوں نے چار سال بعد ججوں کا فل کورٹ اجلاس بلایا۔ اہم مقدمات کو براہ راست نشر کیا جا رہا ہے۔ 17 ستمبر کو حلف اٹھانے کے بعد میں نے سوچا کہ مجھے عوام کو بتانا چاہیے کہ جج عدالت میں کیا کرتے ہیں۔ سہ ماہی رپورٹ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی ہے۔

قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ رپورٹ میں اہم مقدمات کے فیصلوں سمیت تمام عدالتی کارروائیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے گزشتہ تین ماہ کے دوران نئے رجسٹرڈ مقدمات سے زیادہ مقدمات نمٹائے ہیں۔ زیر التواء مقدمات کی رپورٹ ہر ہفتے اپ لوڈ کریں۔ تمام ریکارڈ عوام اور میڈیا کے سامنے رکھے گئے ہیں تاکہ ان کے احتساب کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون رجسٹرار کا تقرر کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کچھ گاڑیاں بھی واپس کر دی ہیں۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر کسی قوم کی تقدیر بدلنی ہے تو یہ تعلیم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ میں خود قائد اعظم یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ اجلاس میں گیا تھا۔ طلبہ یونین کی بحالی کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ سپریم جوڈیشل کونسل کا طریقہ کار بھی تبدیل کر دیا گیا ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے سب سے پہلے پرانی شکایات کی سماعت کی۔ فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کو بہتر بنانے کے لئے کام کر رہے ہیں۔ پہلی بار سپریم کورٹ نے ویب سائٹ پر تمام معلومات جاری کیں۔

پسندیدہ مضامین

پاکستانقوم کی تقدیر بدلنا تعلیم کے ذریعے ہی ممکن ہے، چیف جسٹس