29.9 C
Karachi
Thursday, June 13, 2024

یوکرین کے بچوں کی منتقلی پر برطانیہ نے روس کے خلاف نئی پابندیاں عائد کر دیں

ضرور جانیے

برطانوی حکومت نے یوکرین سے بچوں کو روس کے زیر انتظام علاقے میں زبردستی ملک بدر کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے ماسکو کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔

یوکرین کی قومی شناخت کو تباہ کرنے کی روس کی کوششوں کے جواب میں ، برطانیہ کے وزیر خارجہ جیمز کلیور نے یوکرین میں جنگ کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) میں تقریر سے قبل یوکرین کے بچوں کی “جبری جلاوطنی” میں ملوث افراد کو نشانہ بناتے ہوئے 14 پابندیوں کا اعلان کیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے دفتر خارجہ کے بیان کے حوالے سے بتایا کہ جن افراد پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں ان میں روس کے وزیر تعلیم سرگئی کروٹسوف اور ماسکو خطے میں بچوں کے حقوق کی کمشنر کاسینیا مشونووا بھی شامل ہیں۔

قومی شناخت

برطانیہ نے ان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ یوکرین کی ثقافتی اور قومی شناخت کو مٹانے کے لیے روس کے ملک بدری کے منصوبے میں ایک گھناؤنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ‘روسی حکام نے 19 ہزار سے زائد یوکرینی بچوں کو زبردستی روس یا عارضی طور پر روس کے زیر کنٹرول علاقے میں جلاوطن کر دیا ہے۔’

برطانیہ کا مزید کہنا تھا کہ ملک بدر کیے جانے والے بہت سے افراد کو دوبارہ تعلیم کے کیمپوں کے نیٹ ورک میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں انہیں روس پر مبنی تعلیمی، ثقافتی، حب الوطنی اور فوجی تعلیم سے روشناس کرایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بچوں کو جبری ملک بدر کرنے کے ان کے گھناؤنے پروگرام اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے نفرت پر مبنی پروپیگنڈے میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا اصل ارادہ یوکرین کو نقشے سے مٹا دینا ہے۔

آج کی پابندیوں میں ان لوگوں کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے جو پیوٹن کی حکومت کی حمایت کرتے ہیں، بشمول وہ لوگ جو یوکرین کو تباہ ہوتے، اس کی قومی شناخت تحلیل ہوتے اور اس کے مستقبل کو مٹاتے ہوئے دیکھیں گے۔

برطانیہ پہلے ہی روس کی بچوں کے حقوق کی کمشنر ماریا لووا بیلووا پر یوکرین کے بچوں کی جبری منتقلی اور گود لینے میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر پابندیاں عائد کر چکا ہے۔

تشدد اور نفرت

یوکرین اور اس کے عوام کے خلاف تشدد اور نفرت پھیلانے کے لیے نفرت پھیلانے پر پیر کے روز دو افراد پر بھی پابندیاں عائد کی گئیں جن میں روس ٹوڈے کے سابق میزبان انتون کراسوفسکی بھی شامل ہیں۔

روسی وزیر ثقافت اولگا لیوبیمووا کو بھی “روسی ریاست کی یوکرین مخالف نقصان دہ پالیسیوں کی حمایت کرنے کے لئے اپنے عہدے کا استعمال کرنے” پر نشانہ بنایا گیا ہے۔

فروری 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے برطانیہ اور بین الاقوامی شراکت داروں نے 1600 سے زائد افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔

پسندیدہ مضامین

انٹرنیشنلیوکرین کے بچوں کی منتقلی پر برطانیہ نے روس کے خلاف نئی...