29.9 C
Karachi
Thursday, June 13, 2024

‘بیٹا عشق کرو، عشق’ نے اپنے والد کے مشورے سے میر کی زندگی بدل دی۔

ضرور جانیے

میر تقی میر کی تصنیف ‘ذکرِ میر’ میں دی گئی تفصیلات کے مطابق میر کے والد علی متقی ایک ایسے شخص تھے جو عشق و محبت، صوفی انسان اور مراقبہ علم میں مصروف تھے۔ وہ جب بھی جوش میں آتا، میر کا ہاتھ پکڑ کر کہتا، ’’بیٹا، پیار، پیار! اس دنیا میں محبت ہی واحد چیز ہے۔ محبت نہ ہو تو دنیا کا یہ نظام قائم نہیں رہ سکتا۔ محبت کے بغیر زندگی مشکل ہے۔ دنیا کی ہر چیز محبت کا مظہر ہے۔

میر نے اس سبق کے ساتھ زندگی گزاری جو اسے اپنی جوانی میں ملا تھا۔ اس کی زندگی کا کوئی بھی کام محبت کے شور اور جوش سے خالی نہیں تھا۔ اس نے نہ صرف یہ نصیحتیں اپنے والد سے سنی تھیں بلکہ اپنی زندگی کو بھی محبت سے بھری ہوئی دیکھی تھی۔

میر بتاتا ہے کہ ایک دن ان کے والد جمعہ بازار کی سیر کے لیے نکلے تھے کہ اچانک ان کی نظر ایک تیلی لڑکے پر پڑی۔ دیر تک اسے دیکھتا رہا اور محبت میں دل ہار بیٹھا۔ جب لڑکے نے کوئی بہانہ نہ بنایا تو وہ اداس ہو کر واپس لوٹ گیا۔ محبت کی آگ پر قابو پانے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ وہ اس کی یاد میں تڑپتا اور روتا رہتا۔ چند ہی دنوں میں اس کی ایسی حالت ہو گئی کہ بندے کا کندھا پکڑ کر زمین پر پاؤں رکھ کر چند قدم چلنے کی ہمت کر سکے۔

ان دوستوں اور والد کی صحبت میں حاصل ہونے والے تجربات نے میر کو ایک بے مثال محبت پیشہ شخص میں ڈھالا اور ان کی زندگی کو اس قابل بنایا کہ وہ محبت کے نئے تجربات سے روشناس ہو سکیں۔

پھر میر تھا، عشق تھا، شاعری تھی۔
پہلی محبت کی توہین
میر تقی میر اکبر آباد (آگرہ) میں پیدا ہوئے۔ وہ ابھی گیارہ سال کے تھے کہ ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔ اس کے بعد کے دن ان کی زندگی میں مشکلات اور مشکلات سے بھرے تھے۔ سوتیلے بھائی نے بدتمیزی کی۔ معاش کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ حالات سے مجبور میر روزی کی تلاش میں بھٹکتا ہوا دہلی پہنچا۔ کسی طرح یہ باورچی خانہ صمصام الدولہ کے دربار میں پہنچا۔ صمصام الدولہ میر کے والد سے بیعت رکھتا تھا۔ جب اسے علی متقی کی موت کا علم ہوا اور میر کی حالت زار دیکھی تو اس نے ایک روپیہ یومیہ وظیفہ مقرر کیا اور میر خوشی خوشی آگرہ واپس چلا گیا۔

دربار کے وظیفہ سے مالی ضروریات تو کسی نہ کسی طرح پوری ہو رہی تھیں لیکن اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ محبت کی ضروریات نے سر اٹھانا شروع کر دیا تھا۔ والد کی نصیحت میر کی زندگی میں جھلکنے لگی۔ معاشی سکون تھا، جوش و جذبہ تھا کہ انہی دنوں میر کو عشق کا پہلا تجربہ ہوا۔ خاندان کی صرف ایک عورت کو دل دیا۔ عشق کی آگ ایسی تھی کہ دل کی دنیا بے قابو ہو گئی۔ کچھ عرصہ عشق و عاشقی کا یہ سلسلہ خاموشی سے چلتا رہا اور میر خوش رہے لیکن رفتہ رفتہ یہ خبریں عام ہوئیں اور پردوں سے محبت کی خوشبو آنے لگی۔ ہر طرف سے لعن طعن ہونے لگی۔ سب اپنے اپنے دشمن بن گئے اور میر اکبر آباد کی سرزمین پر پھر تنگ ہونے لگے۔ آخر کار لوگوں کی باتوں اور ان کے رویوں سے مجبور ہو کر میر ناکامی عشق کا داغ لے کر دہلی روانہ ہو گئے۔

اکبر آباد سے گھڑی
چشمِ حسرت درِ بام پر گری۔

میر اس بار دہلی پہنچے تو پہلے جیسی دہلی نہیں تھی۔ صمصام الدولہ نادر شاہ کے ساتھ لڑتے ہوئے مارا گیا تھا۔ دہلی کی ہر گلی میں تباہی کی داستانیں بکھری ہوئی تھیں۔ اس ویران شہر میں اسے نہ کوئی تباہی تھی اور نہ ہی کوئی غم۔ وہاں صرف ماموں کا دروازہ تھا (سراج الدین علی خان آرزو) جہاں پناہ مل سکتی تھی۔ چنانچہ میر آرزو کے گھر آکر ٹھہر گیا۔
یہاں ان کے سوتیلے بھائی حافظ محمد حسن نے آرزو کو خط لکھا تھا جس میں اکبر آباد میں میر کی سرگرمیوں اور خاندان کی بیوی کے ساتھ اس کی محبت کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ لکھا تھا کہ ’’میر محمد تقی فتنہ روزگار ہیں۔ اس کے سارے کام دوستی کی آڑ میں کیے جائیں۔ یہ جان کر آرزو نے میر سے بدتمیزی شروع کر دی۔ ہر وقت ان پر نظر رکھنا، ڈانٹنا، سرزنش کرنا۔ ایک شام میر آرزو کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھی تھی جب اس نے ڈانٹنا اور سرزنش کرنا شروع کر دی جس سے میر اتنا دل شکستہ ہو گیا کہ دوبارہ مامون کی طرف متوجہ نہ ہوا۔

پاگل پن اور محبت کی طاقت کا دور


اکبر آباد چھوڑنے کا غم تھا، ناکام محبت کا داغ تھا اور پھر ماموں کی زیادتیاں، ان سب کا نتیجہ یہ نکلا کہ میر حوا س بے قابو ہو کر دیوانہ ہو گیا۔

جنون اتنا بڑھ گیا کہ انہیں بیڑیوں میں باندھ کر رکھا گیا۔ لوگ اس کے دروازے پر آنے سے بھی ڈرتے تھے۔ میر کے ساتھ وقت گزارنے والے شاعر سعادت خان ناصر بتاتے ہیں کہ جنون نے ان کی صحت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ فضول باتیں کر کے اپنی زبان گندی کرتے تھے اور ہر شخص کو گالی دینا اور پتھر مارنا ان کی عادت بن چکی تھی۔

انہی جنون اور جنون کے دنوں میں میر کو عشق کے دوسرے تجربے کا سامنا کرنا پڑا۔ جس نے اپنے دل و دماغ کی دنیا بدل دی۔ رات کو جب وہ چاند کو دیکھتا تو وہاں سے ایک پری پیکر اس کی طرف آتی اور صبح کو محبت کی آگ میں تپ کر غائب ہو جاتی۔ اس پری پیکر کے ساتھ رات گزارنے کے بعد میر صبح کو اکیلا رہ جاتا اور اپنے چھوٹے سے حجرے میں جذباتی حالت میں لیٹ جاتا۔ خود میر نے یہ قصہ ذکر میر میں بیان کیا ہے۔

“چاندنی رات میں، ایک پیکر خوش سورت، کمال خوبی کے ساتھ، قرہ قمر (چاند) سے میری طرف بڑھتا اور مجھے بے بس کر دیتا۔ جہاں بھی میری نگاہ اٹھتی تھی، وہی فرشتے کی محبت پر پڑتی تھی، میں جدھر دیکھتا تھا، اسی غرور کا تماشا بناتا تھا۔ میں ہر رات اس کی صحبت میں رہتا تھا اور ہر صبح اس کے بغیر بے چین رہتا تھا۔ جب صبح روشن ہوتی تو وہ جلتے دل سے ٹھنڈی آہ بھرتی اور چاند کی طرف پلٹ جاتی۔ میں سارا دن جنون میں رہتا تھا اور اس کی یاد سے دل خون کرتا تھا۔ میں پتھر ہاتھوں میں لیے پھرتا ہوں، میں خزانہ ہوں اور لوگ مجھ سے بچتے ہیں۔

بعد کے دنوں میں میر نے اپنے سحر اور چاند سے اترے عاشق پر ‘خواب و خیال’ کے نام سے ایک مثنوی بھی لکھی اور سارا واقعہ شاعرانہ انداز میں بیان کیا۔ مثنوی کے چند شعر پڑھیں

جگر گردن سے خون بن گیا۔
میں پر اور آف پاگل ہوں

رات کو چاند کی طرف دیکھا
گویا بجلی میرے دل پر پڑی۔

میں نے مہتاب میں ایک چہرہ دیکھا
کمی تھی جس کی وجہ سے کھانے او خواب میں

میں دیکھتا ہوں تو میری آنکھوں میں خون آ جاتا ہے۔
میں نہ دیکھوں گا تو زندگی پر عذاب ہو گا۔

میر بتاتا ہے کہ چار پانچ ماہ تک اس کے سحر سے پیدا ہونے والا یہ خیالی عاشق اس پر تباہی مچاتا رہا۔ ان دنوں ایک عورت جو اپنے والد کی پیروکار تھی میر کی حمایت کرتی تھی۔ اس کے علاج پر پیسہ خرچ کیا۔ تراکیب، تعویذ اور دوائیوں کے اثر سے میر صحت یاب ہونے لگے۔ رفتہ رفتہ انجان عاشق کا جادو بھی ٹوٹتا چلا گیا اور دل پر لگے زخم دھندلے ہونے لگے۔

ایک اور لطیفہ
چند مہینوں کے بعد میر ٹھیک ہو گیا لیکن دیوانگی کا سایہ اور محبت کی دھوپ ہمیشہ ان کے ساتھ رہی۔ اس دھوپ اور چھاؤں کے ساتھ وہ کیسے زندگی گزارتے تھے اس کی ایک جھلک خود میر کے ان الفاظ میں ملتی ہے۔ دہلی میں اپنے دنوں کو یاد کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں،

میں وہاں (دہلی میں) رہتا تھا، پارٹی کرتا تھا، شاعری پڑھتا تھا، محبت کی زندگی گزارتا تھا، راتوں کو روتا تھا، خوبصورت عورتوں سے لڑتا تھا، ان کی خوبصورتی کی تعریف کرتا تھا اور ایک لمحے کے لیے لمبے بالوں والے عاشقوں کے ساتھ رہتا تھا۔ اس سے جدائی، وہ بے چین ہو جاتا۔
میر نے اپنی سوانح عمری میں اپنی اس رنگین زندگی کا بہت تفصیل سے ذکر نہیں کیا، وہ ذاتی حالات پر لکھتے ہوئے اپنے زمانے کے اتار چڑھاؤ کی تفصیلات دینا شروع کر دیتے ہیں، لیکن ان کی زندگی سے دلچسپی رکھنے والے ان کی مثنوی (اردو شاعری کی کتاب) پڑھ سکتے ہیں۔ موڈ) بہت مفید ہیں۔ وہ خود ان خالی جگہوں کو پر کرتے ہیں جو میر نے اپنی سوانح عمری میں چھوڑا ہے اور آگے بڑھا ہے۔

ایسا ہی معاملہ پچاس سال کی عمر میں شادی شدہ عورت کا ہے۔ یہ محبت اس وقت کھل کر سامنے آئی جب میر نے مثنوی ‘مملتِ عشق’ لکھی اور محبوب کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے قصے سنانے میں بڑا لطف اٹھایا۔

بوڑھے میر کی زندگی میں آنے والی یہ خاتون شادی شدہ تھی۔ میر کہتے ہیں

وہ اپنی اپنی قسم کے تھے
لیکن تصرّف میں کوئی اور تھا۔

لیکن رفتہ رفتہ معاملات بڑھتے گئے۔ چھیڑ چھاڑ بہت چلتی تھی، جور و جفا کا سلسلہ تھا۔ کبھی عاشق خوشی کی بات کرتا، کبھی سینے پر پاؤں رکھ لیتا، کبھی پیروں پر آنکھیں رگڑتا۔ کبھی وہ انگلیوں کو اس طرح دباتا تھا کہ میر درد سے جاگتا تھا لیکن محبت میں یہ درد اس کے لیے لذت سے خالی نہ ہوتا تھا۔ لکھتا ہے

ایک دن میرا ہاتھ فرش پر تھا۔
وہ مجھ سے بھی بات کرتے تھے۔

پیر کو ٹھوکر ماری
درد خوشی سے خالی نہیں تھا۔

میں نے اسے درد سے باہر کیا۔
دست نازک سے لمبی دبھی

ہر طرف پاؤں پھیلانا
میری آنکھوں کو رگڑنا

جب بھی یہاں چلتے تھے۔
میری آنکھوں پر قدم رکھتے تھے۔

عمر کے اس مرحلے میں بھی میر کو پورے جوش، جذبے اور خودی سے پیار کیا جا رہا تھا۔ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ جب محبوبہ پان کھا رہی تھی تو میر نے منہ چبا کر پان مانگا۔ پہلے تو اس نے ہنسنے سے گریز کیا لیکن پھر نہ جانے اس کے دل میں کیا آیا کہ اس نے اسے تھوک دیا اور میر خوش ہو گیا۔

ایک دن وہ پان کے پتے چباتے تھے۔
مجھے اس کے گلابی ہونٹ اچھے لگے

میں نے کہا اگر تم نے مجھے تھوک دیا۔
اگر آپ مجھے اپنا منہ دیں تو مجھے مہربانی کریں۔

اس وقت ہنستے ہوئے مجھ سے گریز کیا۔
پھر اسی رنگ کے ساتھ تھوک دیں۔

شوک کہاں قبول ہے؟
یہ پہلا عشق تھا جس میں میر کے ستارے ابھی تک میر کے ساتھ تھے۔ وقت گزرتا رہا اور دونوں طرف محبت کی آگ زور پکڑتی گئی۔ وصل کے وعدے کیے گئے اور ٹوٹ گئے۔ پھر ایک دن ایسا آیا کہ میر اس ظالم عاشق کے ساتھ ضلع کرنال کے سفر میں تھا۔ توقعات پوری ہوئیں۔ میر کی تحریریں خود پڑھیں۔

جب جسم میں تناؤ نہ ہو۔
ایک دن ہم متصل میں بیٹھے ہوئے تھے۔

شوق کا سب کہاں قبول ہے۔
یعنی دل کی خواہش پوری ہو گئی۔

جس کے لیے میں آوارہ تھا
وہ عظیم پارا میرے ہاتھ میں آگیا

میر کی لاش کے لیے وصال کی آرزو ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ محبوب سماجی رسوائی کے خطرے کی وجہ سے اس سے جدا ہو گیا۔ اس میں میر جیسی ہمت نہیں تھی کہ محبت کی خاطر ذلیل و خوار ہوتے۔ صرف میر ہی تھے کہ بڑھاپے میں بھی لعن طعن کرتے تھے اور دوسروں اور دوسروں کے طعنے سنتے تھے۔

میر نے محبوب سے جدائی کا منظر بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے۔ محبوب کے جانے کے بعد میر کے لیے دنیا تاریک ہو گئی۔ اس کے جسم میں دم تھا مگر وہ اپنے آپ کو مردوں میں شمار کرتا تھا۔

جن سے منہ موڑ لیا
تیرا نے دنیا کو ہر گاؤں دیکھا

اس کے سفر سے آنے کا یوں ہی ہوا۔
گویا دنیا چھوڑنا ہے۔

اب میر کے نابغہ عاصب میں ہجر کے اس صدمے کو آسانی سے برداشت کرنے کی ہمت نہیں تھی۔ گرز میر خاموش بیٹھا رہا۔

محبت ایک بھاری پتھر ہے
وہ کب اٹھتا ہے آپ کے نعت سے

اس واقعہ کے بعد یعنی 1772ء سے 1782ء تک ایک زمانہ ایسا آیا کہ میر دل اور شہر دونوں کی ویرانی کا ماتم کرتے ہوئے کھانے پینے کی حالت میں گزارا کرتے تھے۔

1782 میں آصف الدولہ کی دعوت پر وہ لکھنؤ روانہ ہوا اور جیسے ہی مرغوں کی لڑائی کے مقابلے میں شہنشاہ سے ملاقات ہوئی تو اس کی غمگین حالت میں خوشی کی چند کرنیں پھر سے پھوٹ پڑیں۔

پسندیدہ مضامین

شاعری'بیٹا عشق کرو، عشق' نے اپنے والد کے مشورے سے میر کی...