23.9 C
Karachi
Tuesday, February 27, 2024

افغان ٹرانزٹ ٹریڈ پاکستان میں بلیک اکانومی کی بنیادی وجہ قرار

ضرور جانیے

ماہرین کے مطابق افغانستان کی ٹرانزٹ ٹریڈ پاکستان میں بلیک اکانومی کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ نے ملکی معیشت پر گہرے اور منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق افغان حکام نے پاکستانی کسٹمز کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ میں اشیا کی قیمتوں کو غلط انداز میں پیش کیا۔ بعد ازاں ٹرانزٹ ٹریڈ کی وہی اشیاء غیر قانونی طور پر پاکستان کو واپس کی جاتی ہیں۔

ذرائع کے مطابق افغان درآمدات میں 67 فیصد اضافہ ہوا ہے، فروری میں حجم 6 ارب 71 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا جبکہ گزشتہ سال ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت افغان درآمدات صرف 4 ارب ڈالر تھیں۔

اعداد و شمار کے مطابق افغانستان سے ایشیا کو مصنوعی فائبرز، الیکٹرانک آلات، ٹائر ٹیوبز، چائے سمیت اشیا کی درآمدات میں بالترتیب 35، 72، 80 اور 59 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

افغان درآمدات میں نمایاں اضافے کی وجہ سے پاکستان کی مصنوعات کی درآمدات میں نمایاں کمی واقع ہوئی: پاکستان کی مصنوعی چمڑے کے کپڑوں کی مصنوعات میں 48 فیصد، الیکٹرانکس آلات میں 62 فیصد، ٹائر ٹیوبز میں 42 فیصد، چائے کی درآمدات میں 51 فیصد، مشینری کی درآمدات میں 34 فیصد، سبزیوں اور پھلوں میں 46 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سے پاکستان کی چھوٹی اور درمیانی صنعتیں متاثر ہوئی ہیں اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا بھی پاکستانی معیشت پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے۔ افغان ٹریڈ کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق لانا وقت کی ضرورت ہے۔

پسندیدہ مضامین

کاروبارافغان ٹرانزٹ ٹریڈ پاکستان میں بلیک اکانومی کی بنیادی وجہ قرار