30.9 C
Karachi
Thursday, June 13, 2024

ایک حسین سپنا

ضرور جانیے

کل میں نے خیالوں میں بھت احترام سے
احوال پیش خدمت رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے کئے

اللہ کے حبیب بہت محنتوں کے بعد
نافذ جو شریعت کو کیا آپ نے حضور
پھر آپکے صحابہ نے جاں و جگر کے ساتھ
قائم اسے رکھا تھا قرن اور قرن کے ساتھ
جس جس نے اتباع صحابہ کی انکے بعد
وہ آپ پہ جانیں نثار کرنے کے تھے مشتاق
جوں جوں وہ حسیں دور وفا دور ھوچلا
امت میں وفا نام کا فقدان ھو چلا
پھر ھم سے غافلوں کا زمانہ شروع ھوا
وہ جن کے لئے دنیا ہی مقصود بن گئ
وہ جن پہ خوف آپ نے فرمایا تھا اک دفعہ
کہ خوف مجھ کو وسعت دنیا کا تم پہ ھے
اللہ کے حبیب ویسا ہی ھوگیا
دنیا کی محبت کے شکنجہ میں پھنسے ھم
اور کیا ھے شریعت یہ سبھی بھول گئے ھم
وہ آپ کے صحابہ جو ھر دم و ہر گھڑی
احکام شریعت کے پیرو تھے اس طرح
جاں جاتی ھے تو جائے پر منظور نہیں یہ
اللہ کا کوئ بھی حکم ھم سے ٹوٹ جائے
سنت کے وہ پیرو تھے ایسے کہ کبھی بھی
سنت کے بناء ممکن نہ تھا گزران زندگی
کیا پیش کروں احوال میں امت کے اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم )
گویا کہ کوئ لکڑی جسے دیمک نے کھا لیا
نافذ تھی جو محل میں صحابہ کرام کے
رخصت کے بعد ٹیڑھی ھوئ پھر جھکی زمیں سے مل گئ
چھوڑا جو شریعت کو تو پستی میں جاگری
دنیا کو اپنی فکر کا مرکز بنالیا
کیا آخرت ھے موت بھی آئے گی ایک دن
سب بھول کر ایسی مگن دنیا میں یہ ھوئ
پھر تو یہ جانور سے بھی بدتر ھی بن گئ
ھے جانور کو صبح شام کھانا ہی چاھئے
پرواہ نہیں اسے کہ ٹوٹا ھے کیا غضب
امت کے مسلمانوں کو مظلوم کردیا
ظالم نے قہر ڈھایا مقھور کر دیا
روزانہ دیکھتے ہیں انسانیت کا قتل
بچوں کا عورتوں کا ضعیفوں کا قتل عام
جرات نھی کسی میں کہ للکار کر کہے
آ میں ھو سپاہی جناب رسول کا
میں دیکھتا ہوں کیسے تو برباد کرے گا
ھم فوج نبی ایک ھیں غالب ہیں چار پہ
ایمان کا جذبہ ھے اصل میرا اسلحہ
ممکن نھی کہ ظلم کریں امت پہ یہ ظالم
اور یوں ہی چھوٹ جائیں بغیر انتقام کے
کوئ نہیں کوئ نھی افسوس اے نبی
کیا منہ دکھائیں آپ کو ھم میں نہیں “رجال”
دیمک کی طرح “وھن ” نے ھم کو کھا لیا
نہ شوق شہادت رھا نہ جنت کا اشتیاق
پھر کیسے موت آئے گی کلمے پہ ھماری
اللہ کے حبیب کچھ شفقت کی ھو نظر
ھے آپ کی دعا تو مقبول و مستجاب
ھم پہ کرم فرمائیے اور کیجئے دعا
اللہ ھمیں ایمان کی نعمت عطا کریں
ھم عامل شریعت اس طرح سے بنیں
مرنے سے پہلے توبة النصوح ھم کریں
دنیا میں مٹا ڈالیں ہر ظلم کا نشاں
جاں کو نثار کرکے محبت میں آپکی
پہنچیں جو حشر میں تو بہت سرخرو ھوں ھم
ھوں آنجناب خوش ھمیں دیکھ کر کہیں
طوبی میرے بھائیوں تمھیں سات بار ھے
دیکھے بغیر مجھ سے میری محبت میں فروشاں
میں آج تم سے خوش ھوں تو اللہ بھی راضی
اے کاش یہ سپنا ہو حقیقت کہ ھمیں بھی
اللہ کے حبیب کی کوئ دعا لگے
اے کاش مسلمانوں کو احساس ھو چلے
ھم کتنے قیمتی ھیں اپنی قدر کریں
اعمال صالحہ کا ذخیرہ ھو زاد راہ
بس آخرت اصل ھے یہ احساس ھو چلے !!!

کلام اھلیہ ڈاکٹر عثمان انور

پسندیدہ مضامین

شاعریایک حسین سپنا