23.9 C
Karachi
Tuesday, February 27, 2024

سرکاری اداروں کے 500 ارب کے نقصانات، حکومت کا پالیسی پر نظرثانی کا فیصلہ

ضرور جانیے

اسلام آباد: نگران حکومت نے سرکاری اداروں سے متعلق پالیسی پر نظر ثانی کا فیصلہ کیا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نگران وزیر خزانہ شمشاد اختر کا کہنا تھا کہ وزارت خزانہ مالی خسارے کی تلافی میں مدد کرے گی، سرکاری اداروں کے خسارے 500 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں، سرکاری ادارے خدمات فراہم کرنے میں ناکام رہے، 10 منافع بخش اور خسارے میں چلنے والے اداروں کی فہرست بنالی ہے۔ چلنے والے کاروباری اداروں کی ایک فہرست تیار کی گئی ہے، حکومت سرکاری ملکیت والے اداروں کے نقصانات برداشت کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں میں کوئی مداخلت نہیں ہوگی، سرکاری ملکیت کے اداروں کی تنظیم نو کی جارہی ہے، کوئی وزارت سرکاری محکموں کو کوئی ہدایت جاری نہیں کرے گی، سرکاری ملکیت کے اداروں کے لیے پہلی بار کابینہ کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ یہ سرکاری کمپنیوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے کام کرے گا۔

قانون کا مسودہ

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے سرکاری کمپنیز کے قانون کا مسودہ تیار کیا ہے، اس مسودہ قانون پر تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی گئی ہے، نئے قانون کے تحت بورڈز کو آزاد اور خود مختار بنایا جائے گا، بورڈز میں ماہرین رکھے جائیں گے اور چیئرمین کا تقرر بھی میرٹ پر کیا جائے گا۔ جبکہ ان کمپنیوں کو پی پی آر اے قانون سے مستثنیٰ رکھا جائے گا۔

نگران وزیر خزانہ نے کہا کہ نجکاری کی فہرست پہلے ہی تیار ہے، اس پر سیاسی اتفاق رائے ہے، نجکاری پر کام جاری ہے اور نجکاری کمیشن آزادانہ طور پر کام کر رہا ہے جبکہ پی آئی اے کی نجکاری پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔ اس کا جواب وزیر نجکاری دیں گے لیکن پی آئی اے کے خسارے بہت زیادہ ہیں، پی آئی اے کو کمرشل بینک سپورٹ کریں گے۔

شمشاد اختر کا کہنا تھا کہ حکومتی گارنٹیز حقیقت ہیں اور وہ آئی ایم ایف کی مقرر کردہ حدود میں ہیں۔

پسندیدہ مضامین

کاروبارسرکاری اداروں کے 500 ارب کے نقصانات، حکومت کا پالیسی پر نظرثانی...